Khumaar Teri Qurbat ka || Episode 1 ||Sad Love Story || Urdu Novel

Khumaar Teri Qurbat ka || Sad Love Story || Urdu Novel


Sad Love Story || Urdu Novel


خمار_تیری_قربت_کا
episode_1

Writer:- zill_e_huma

ڈیڑھ سال کے بعد سب نے آج حدید عالم کو ایک الگ ہی رنگ میں دیکھا تھا .. وہ آج نماز کے بعد قرآن مجید کی تلاوت کر رہا تھا جب جہانگیر عالم نے اپنے بیٹے کو پرسکون دیکھ کر دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کیا تھا.... .. وہی حمد عالم حدید عالم کی آج سب کے ساتھ باجماعت نماز پڑھنے پر جہاں خوش تھا وہی پریشانی اور سوچ نے بھی آگھیرا تھا....

پچھلے ڈیڑھ سال سے حدید عالم غصہ کرنا، خود کو سجانا بھول چکا تھا اور خود کو ایک ہی کمرے تک مخدود کر لیا تھا.. یاں تو وہ سارا وقت باہر گُزارتا یاں گھر میں اپنے کمرے میں... .. ڈپریشن کے شکار سے ہر دیکھنے والی آنکھ کے لیے سنجیدہ اور ٹوٹا ہوا انسان تھا... 

  وقت کی چکی نے حدید عالم سے اُسکا سکون چھین لیا تھا.. وقت نے ایسی چال چلی تھی کہ وہ اپنے گناہوں کے بوجھ میں دھنستا چلا گیا... مگر اُسے معافی چاہیئے تھی اپنے گناہ کی... ایک ایسا گناہ جس سے کسی کی عزت کو روندھا گیا ... اُسے اُسی کی محبت کی بدنامی کیلئے استعمال کیا گیا... حدید عالم کے نام کو اسی کی محبت کی کردار کشی کے لیے استعمال کیا گیا .اور وہ انجان رہا.. وہ اپنی ہی محبت سے اندھا رہا... مگر کہتے ہیں نہ وقت ہر زخم کی دوا ہے.... گزری پوری رات حدید اپنے رب کے حضور سجدہ ریز رہا. کبھی شکرانے کے لیے تو کبھی توبہ کیلئے اپنے رب سے اپنے انجان گناہوں کی معافی مانگتا رہا... 
آج اُسکی محبت اُس سے ہمکلام ہوئی تھی . آج اسکی محبت نے اُسے معاف کیا تھا...

وہ مطمئن تھا.. مگر محبت کا حصول چاہتا تھا... 

نگہت بیگم بھی اپنے بیٹے کے عمل سے خوش ہوئی تھی آج حدید عالم ڈیڈھ سال بعد سبکے ساتھ کھانے کی میز پر آ رہا تھا..
💥💥💥 
 حدید عالم نے ڈیڑھ سال بعد میسج لکھا تھا... گُل..... مگر ہر بار کی طرح آج صرف ٹائپ نہیں کیا تھا سینڈ بھی کیا تھا.. بےبسی میں میسج سینڈ کر کہ وہ آج پھر سے ڈرنے لگا تھا.. کہ ایک دم *جی حدید* کے ریپلائی نے حدید کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکال دی حدید کی آنکھیں خوف سے بھر چکی تھی جسم ایک دم اپنی جان کے میسج سے پسینے سے بھر آیا تھا اور دماغ ایک دم سُن ہو گیا... وہ چیخنا چاہتا تھا مگر آواز کہیں اندر ہی دب گئی تھی.. ایک دم خوف سے کانپتے اپنے کمرے میں جا کر بند ہو گیا تھا....  
دو گھنٹے خود سے جنگ کے بعد حدید نے رات بارہ بجے کانپتے ہاتھوں سے موبائل پکڑا تھا.. اور دوبارہ میسج ٹائپ کرنا شروع کیا تھا..
گُل... کیسی ہو؟

کافی دیر انتظار کے بعد گُل نے ریپلائی کیا تھا
*میں ٹھیک ہوں آپ یہاں میسج اب مت کرو فون میرا نہیں ماما کے پاس ہوتا ... میرے لئیے مشکل نہ بنانا...*
  
گَل کے میسج نے حدید کو ازیت کی انتہا پہ پھینکا تھا.... مگر حدید نے ہمت کر کہ پانچ منٹ مانگ لیے.... 
جسے گُل نے مشکل سے مانا تھا.

گُل مجھے معاف کر دو میری سزا کو کم کرو.. میری ایک غلطی زندگی میں مجھے اس موڑ پر لاۓ گی میں نے سوچا بھی نہیں تھا... میں نے کبھی صیح غلط پر دھیان نہ دیا. مجھے تم سے معافی چاہیے میری گُل مجھے واپس چاہیے. ایک بار آخری بار مجھ سے ملو گُل میں نظر اُٹھا کر نہیں دیکھو گا*
حدید عالم نے کانپتے ہاتھوں کے ساتھ میسج سینڈ کیا تھا...  
جس کے جواب میں جہاں حدید عالم سکون میں آیا وہاں بےبس بھی ہوگیا تھا...  

حدید عالم میں نے تمہیں معاف کیا، مجھے دھوکہ دینے کے لیے.... حدید عالم میں نے اپکو معاف کیا بھری محفل میں اپنی کردار کشی کے لیے... حدید عالم میں نے اپکو معاف کیا ہر اس دکھ کے لیے جو آپکے دھوکے سے میری فیملی اور مجھ پر آۓ.. اور رہی بات ملنے کی تو اس کی توقع مت کریں آئندہ مجھے میسج نہیں کیجیے گا شکریہ.....

گُل کے ریپلائی پڑھنے کے بعد حدید وضو کے ارادے سے بستر سے اُٹھ گیا تھا..

جہاں حدید عالم کی آنکھیں گُل کے حصول کیلئے رات سجدے میں اشکبار تھیں وہی گُل کی آنکھیں اپنے اللہ سے حدید عالم کی محبت دل سے نکالنے کیلئے. اشکبارتھئں...

مگر وقت نے ابھی اور امتحان اس کہانی کے انجام میں لکھے تھے.... 
💥💥💥💥💥💥

ماضی 🌠
*ماما... ماما... کہاں ہیں آپ رافع کو بولیں جلدی اُٹھے مجھے سٹاپ پر چھوڑ کر آئے*.....

حمنا بیگ پر اپنی آخری نظر ڈالے اپنے کالج کے پہلے دن کی خوشی میں خود کو آخری ٹچ دینے لگی..

حمنا کی آواز سن کر نادیہ بیگم نے رافع کو آواز لگائی اور خود اپنی بیٹی کی بلائیں لیتے نصیحت کرنے لگی مگر حمنا کا دھیان اپنی ماں کی نصیحتوں سے زیادہ کھانے سے انصاف کرنے پر تھا جب حمنا کو احساس ہوا کہ نادیہ بیگم ایک دم چُپ ہو گئ تو ایک دم اپنے غیر حاضر دِماغ کو حاضر کرتے. دہی کی پیالی کو سائیڈ پر کر ک اپنی ماں کو گلے لگا لیا..

*ماں آپ جانتی ہیں نہ میں اپنے بابا کی سب سے سمجھ دار اولاد ہوں آپ پریشان نہ ہوا کرو آپ کی بیٹی اگر شیطان ہے تو آپ کی ہمّت اور آپکا مان بھی تو ہوں.... *

نادیہ بیگم نے مُسکرا کر اپنی لَختِ جِگر کو اپنے سینے سے لگا کہ آیتّلکُرسی کا وِرد پُھونکنے لگی...

 جبھی رافع اندر داخل ہوتے حمنا اور ماں کا پیار دیکھ کر تپ گیا..

 آپی...! ایک جلن کے احساس کے ساتھ اس نے حمنا کو اپنی جانب متوجہ کیا.... اگرماما کو مِیسناپن دیکھا لیا ہو تو جلدی چلو اب نہیں تمہیں لیٹ ہو رہا.. ....!!!!

رافع کہتے رُکا نہیں اور نکل گیا اور پیچھے حمنا اپنی ایک نئ صفت میسنی جان کر نادیہ بیگم سے شکایت کرنے لگی.. اور ساتھ ہی اپنا برقعہ درست کرتے اپنا بدلا رافع سے شام پر ڈالتے، اللہ کو یاد کرتے گھر سے نکل گئی.پیچھے نادیہ بیگم اپنی چھوٹی دو اولادوں موسیٰ اور بلاول کو سکول کیلئے تیار کرنے کا سوچ کر کمرے سے نکل آئی

نادیہ بیگم اور دلآویز کی چار اولادیں تھی ایک بیٹی حمنا جس میں دلآویز کی جان تھی اور تین بیٹے رافع موسیٰ اور بلاول .. زندگی میں مالی حالات اچھے نہ ہونے کے باوجود بھی گھر میں محبت سکون اور امن قائم تھا مگر دلآویز کی صحت نے اتنا ساتھ نہ دیا اور اپنی بہت چھوٹی اولاد اور ایک محبت کی بیوی کواکیلے دنیا سے لرنے کے لیے دنیا سے کوچ کر گئے..جہاں جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھتی جوان بیٹی اور کم عُمر بیٹوں کو باپ کا سایہ چِھن جانے سے ایک گہرے صدمے نے گھیرا وہی بیوہ نادیہ بیگم بھی صدمے سے نڈھال تھی مگر نادیہ بیگم اور ان کی اولادوقت کو قبول کر کہ ایک دوسرے کا سہارا بن گئے تھے.
 حمنا گُل کے اچھے نمبروں کی وجہ سے شہر کے اچھے کالج میں داخلہ ہو گیا تھا....اور آج وہ اِسی خوشی میں کچھ ذیادہ ہی خوش تھی

..💥💥💥

رافع کے ساتھ قدم ملاتی حمنا اُس سے لڑائی کا مخاظّ بھی کھولے ہوئے تھی.. مگر یہ تو دونوں ہی جانتے تھے کہ یہ نوک جھونک کہ بغیر وہ ایک دوسرے کو بہن بھائی ہونے کا ثبوت نہیں دے سکتے .. ابھی سٹاپ پر پہنچے ہی تھے کہ اور بھی بہت سی لڑکیاں کالج بس کا انتظار کر رہی تھی.. کہ اچانک ایک لڑکی جو کہ محلے کی ہی تھی حمنا کے پاس آئی اور خیریت سلام کے بعد باتیں کرنے لگی..

حمنا آج پہلی دفعہ ہُماگل سے مل رہی تھی اور ہما گل کو دوستی کرنے میں کمال حاصل ہونے کے باعث جلد ہی حمنا گل کو دوست بنا چکی تھی.. 
رافع دُور سے اپنی بہن کو دیکھ رہا تھا اور رافع کو وہ لڑکی حمنا گُل کے لیے بلکل بھی صحیح نا لگی .... مگر وہ صرف سوچ کہ ہی رہ گیا . اور بس کو آتا دیکھ کر واپسی کی راہ لی بس آتے ہی سب لڑکیاں بس پر چڑھ چُکی تھی اور حمنا گُل بھی اپنی مُحلے کی لڑکی ہُماگل سے نئی دوستی کر کہ بہت خوش تھی..

  مگر اگلے وقت کو کون جانے زندگی کی یہی دوستی زندگی سے رنگ ختم کرنے والی تھی.....

💥💥💥

بھائی.. بھائی جلدی اُٹھو ہمیں کالج ڈراپ کر کہ آو.....

حمدان نے آج شیر کے پِنجرے میں ہاتھ ڈالا تھا. مگر گُپ اندھیرے کمرے سے کوئی بھی جواب نہ پاکر ایک بار پِھر آواز دینا شروع کیا ...

 بھائی اٹھ جاو پاپا اور حمد بھائی آپ کا کب سے انتظار کر رہے ہیں...

 ہار مانتے نیچے آکر غصے سے جہانگیر عالم کو شکایت ہونے لگی ..
*پاپا بھائی نہیں آرہے انہیں احسّاس ہی نہیں میرا بھی آج پہلا دن کالج میں .. جب خود کی کلاسز سٹارٹ ہو جائیں گی تب فجر کے وقت اُٹھا کریں گے..

..
. جہانگیر عالم کا اپنے چھوٹے بیٹے کی پریشانی اور اپنے لاڈلے بیٹے کی غیر زمہ داری سے صُبح ہی صُبح موڈ خراب ہونے کو آ رہا تھا اور وہ اُٹھ کر اپنی متاعِ جان زوجہ نِگہّت جہانگیر کو اِنکے لاڈلے بیٹے کی غیر زِمہ داریاں گنّوانے کے ارادے سے کچن کی طرف ہو لیّے تھے ..

 حمدان نے تنگ آکر بیگ اُٹھایا ہی تھا کہ پیچھے سے حدید عالم نے غصے سے رُکنے کااور انتظار کا کہا اور دوبارہ کمرے میں بند ہو گیا پیچھے حمدان اس سوچ میں دوبارہ ناشتہ کرنے بیٹھ گیا تھا اب تیرا کیا ہوگا کالیا...

سامنے بیٹھے حمد عالم اپنے چھوٹے بھائی حمدان عالم کی شامت کا سوچ کر مُسکرا دیا.. .. 

 حدید عالم جہانگیر عالم کی تیسری نمبر کی اولاد تھی جہانگیر عالم کو اللہ نےچار بیٹوں سے نوازا تھاحامدعلم. حمد عالم،حدید عالم اور حمدان عالم... نِگہّت عالم نے اپنی اولاد کی تربیت ہر لخاظ سے بہترین کی تھی .. مگرحدید عالم اپنے تینوں بھائیوں سے مختلف تھا غصّہ زدّ اس کی اہم خُوبی بچپن سے ہی تھی اور وہ حدید عالم ہی تھا جسکی بچپن سے ہی جھگڑنے کی شکایت آتی تھی مگر جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے حدید عالم جہاں سمجھدار ہوا تھا وہی اس کی سنجیدگی سے سبھی ڈرتے تھے.. اس میں کسی بات کا کوئی شکّ نہیں تھا حدید عالم اپنی شخصیت میں اپنی مثال آپ تھا شرارتیں مستیاں جہاں گھر میں لگانا اس کا ذوّق تھا وہی اس کا چہرہ پرکھنّے کا آغاز ابھی تک اس کے بھائیوں نے نہیں کیا تھا.. اس دُھوپ چھاؤں سے شخص کو جہاں محبتوں میں کمال حاصل تھا وہی نفرت اور غصے کا جمال اسے وراثت میں ملا...

 ...... کچن سے نکلتی نگہت عالم اپنے شوہر کی شکایات کو نظرانداز کیے کمرے سے نکلتے حدید کی طرف آئ تھی..

آپکو میرا بیٹا کہاں سے غیر حاضر لگ رہا ہے ماشاءاللہ دیکھیں کیسے اٹھ کر تیار بھی ہو گیا ہے اور شہزادہ بھی لگ رہا ہے..

جہانگیر عالم سر کو نفی میں ہلاتے اپنے بڑے بیٹے حمد عالم سے کسی اہم موضوع پر گفتگو کیلئے متوجہ ہو گئے نگہت بیگم کو اپنے بیٹے کا اچھے سے پتہ تھا کہ ڈرائیونگ کے لیےحدید کو زبردستی اُٹھانا اِسکا پارا ہائی کرنا تھا اِسی بات کو مدنظر رکھتے نِگہت عالم اپنے بیٹے کا غصہ ڈھنڈا کرنے میں لگ گئی تھی ..

 حدید عالم اپنی ماں کی نصیحت کو سُن کر باہر نکل گیا جس کا مطلب حمدان سمجھ چکا تھا کہ اسے بھی باہر بھاگنا ہے...  

حدید عالم نے حمدان کو نظرانداز کرتے بایئک سٹارٹ کر دی تھی مگر حدید عالم کا باہر نکلنا تھا کہ ہزار آنکھیں حدید کو دیکھ رہی تھی مگر حدید عالم کے لیے یہ سب کہاں نیا تھا وہ بھی اپنی ہسی خود میں سموۓ گزرتا چلا گیا... 

محبت کے معنی نہ جانتا انسان یہ کہاں جانتا تھا محبت جب گلے پڑتی ہے تو جان دینے پر بھی نہیں چھوڑتی...

💥💥💥💥
حمنا گل کے سکول کے گروپ کو بھی ہُماگل کُچھ خاص پسند نہیں آئی تھی بریک میں کچھ دیر بیٹھنے سے ہی حمنا گل ہُما گل کی باتوں سے اور مزاق سے متاثر ہوئی تھی...

کوریڈور سے گزرتے ایک جونیئر پروفیسر کو دیکھ کر جہاں حمنا نظر جھکا کر گزرنا چاہتی تھی وہی ہُماگل نے ہاتھ پکڑ کر روک لیا.. اور سر سے بہت ذیادہ فرینک ہو کر باتیں کرنے لگی.. 

 جہاں حمنا کے لیے یہ بات عجیب تھی وہی نئ بھی تھی کہ کسی میل استاد سے اس طرح فری ہونا....... دن تیزی سے گزر رہے تھے جہاں حمنا گل ہماگل کے ہرگناہ کی رازدار بن رہی تھی.. وہی نادیہ بیگم حمنا کی ہما سے دوستی سے پریشان رہنے لگی تھی... ہما گل اور اس کے گھر کا ماحول پوری سوسائٹی میں مشکوک تھا ہما گل کے لیے سوشل میڈیا یوز کرنا ایک عام سی بات تھی.. مگر حمنا گل کو بھی جلد ہی موبائل کا فتور سر چڑھ کر بولنے لگا ... اور نادیہ بیگم سے زد کر کہ موبائل لے لیا.....

🍁آخر یہ لڑکیاں کیوں نہیں سمجھتی.. گناہ کے کام میں لذت ہے مگر عزت نہیں...🍁    
💥💥💥
آج حدید عالم کی بھی کلاس تھی صبح اٹھتے ہی اسے اپنی کلاسمیٹ عائشہ کا میسج وصول ہوا تھا جس کو ایک نظر پڑھنے کے بعد نظرانداز کرتے آج ڈارک براؤن رنگ کی شلوار سوٹ پہننے کے اِرادے سے فریش ہونے واشروم میں گُھس گیا..
   آج حمدعالم کا بھی جاب کا پہلا دن تھا اور حمدان کے ساتھ حمد بھی آج اپنے ڈرائیور کے انتظار میں ناشتے سے انصاف کرنے میں تھا ابھی حدید نہا کر باہر نکلا ہی تھا کہ حمد نے آواز دے کر چلنے کا کہا..

 حدید کو بال بناتے پہلے غصہ تو اچھے سے آیا تھا کیونکہ اس وقت اِسکا ارادہ اپنے پیٹ سے وفاداری کرنے کا تھا...

 مگر پھر وقت دیکھنے سے خود کو نارمل کیا اور سردی کی صورت میں سوٹ کنٹراسٹ کی مین شال نکال کر اپنے شانوں میں ڈالی اور جلدی سے ڈراپ کرنے کے لیے اس ارادے سے نکل گیا کہ واپس آکر آرام سے ناشتہ کرے گا... ...

💥💥💥💥
حمنا گل اور ہما گل کے ساتھ کالج بس میں بیٹھے اپنے نئے فیسبک اکاؤنٹ کا اسے بتا رہی تھی ساتھ ہی اپنے نئے نمبر کی خوش میں اسے گھر میں کی اپنی زِدّ کی داستان سنا رہی تھی.. کالج روڈ پر پہنچ کر دونوں باہر کا موسم اور منظر دیکھنے میں مگن ہو گئی..  

ہر طرف ہریالی، صبح کا منظر جہاں سکون دے رہا تھا وہی ایک منظرِ پر نگاہ ٹھہر سی گئی تھی ..

 گُل کو وہ کسی ریاست کا شہزادہ لگا تھا جو بس اپنے آپ میں مگن بچوں کی طرح اپنے گرد لپیٹی شال کے ساتھ اُلجھنے میں مگن تھا.. 

 گُل کا دل ایک دم اس شہزادے کو اپنے قریب دیکھنے کا من چاہا تھا.. گھنّی مونچھیں، لہراتے بال جو اسکے ماتھے پر آ کر اُس شہزادے کو اور پریشان کر رہے تھے.. دل نے زور سے اس شہزادے کے لیے قبول ہے کا ورد کیا تھا... اس شہزادے کے چہرے سے اُسکی شال کی بیزاری عیاں تھی جو یاں تو اُسے دور پھینکنے کی تھی یا پھر اپنے گرد اچھے سے لپیٹنے کی..!. 

اس منظر سے ہوش گُل کو تب آئی جب بس ڈرائیور نے سب کو کالج گیٹ پر اترنے کو کہا.... اور گلُ دل کی وادی سے نکلتے سر جھٹکتی کالج میں داخل ہو گئ...
💥💥💥
جاری ہے۔۔۔۔۔۔

Post a Comment

0 Comments