Ishq main Mar Jawana || romantic urdu novel || Episode 1

Ishq main Mar Jawana || romantic urdu novel || Episode 1


romantic urdu novel



عشق میں مرجاواں 🌹
قسط نمبر 1
مصنفہ حفضہ جاوید 


صبح صبح دادی جان پورے گھر میں شور مچا رہی تھی. آج اتوار کا دن تھا اور سب بچے اپنے اپنے کمروں میں سوئے ہوئے تھے جبکہ دادی جان نے سب کو صبح جلدی اٹھنے کو کہا تھا. سب سے زیادہ دادی جان کو جس پر غصہ تھا وہ ان انابیہ تھی ۔ تیمور سیڑھیاں اترتے ہوئے جلدی جلدی آ رہا تھا۔
" دادی جان کیا آپ بھی صبح شروع ہوجاتی ہیں. ایک اتوار کا دن ہی تو ملتا ہے سب کو سونے دیا کریں."
تیمور نے دادی جان کا ہاتھ تھاما اور اپنی آنکھوں سے لگایا.” بگڑے ہوئے نواب زادے ہیں یہ سب اور کچھ نہیں. تیمور تجھ سے پوچھتی ہوں میں کہ یہ لڑکیاں جب اپنے سسرال میں جائینگی تو کیا کریں گے۔"
" دادی جان آپ پریشان مت ہوا کریں ہم تو اپنی بچیوں کی شادیاں ہوتی جلدی نہیں کریں گے. “
” ہاں ہاں تو خود بھی کنوارہ ہی رہے گا۔ میں تو کہتی ہوں تم لوگوں کی اولادیں دیکھنے سے پہلے ہی میری آنکھیں بند ہوجائیں گے. “
” دادی اتنی اموشنل مت ہوا کریں. زمانہ اور وقت بدل گیا ہے. “
” ہم تو ابھی بھی وہی ہیں۔بس تم لوگ بس بدل گئے ہو۔"
سارہ تیزی سے تیمور کی طرف آئی ۔اس کے ہاتھ میں کافی کا ایک مگ تھا یہ صبح صبح جلدی اٹھنے کی عادی تھی۔
" بھائی آپ اتنی جلدی اٹھ گئے آج۔"
" سارہ تمہیں پتا ہونا چاہیے کہ نو بج چکے ہیں. مجھے بتاؤ عناب جاگ گئی یا نہیں۔"
" پتہ نہیں بھائی مجھے نہیں پتا شاید وہ فجر کی نماز کے بعد باہر نکل گئی تھی. “
” کتنی بار کہا ہے میں نے تیمور اس لڑکی کو کے باہر مت جایا کرو. صبح کے وقت. اس لڑکی کو تو بالکل بھی چین نہیں آتا اتنی خوبصورت ہے مجھے تو ڈر لگتا ہے کہ کوئی جن اس پر عاشق ہو جائے گا۔"
" دادی اب وہ جن عشق ہونے والے زمانے گئے. وہ خود ایک چڑیل ہے جن اسے دیکھ کر ہی بھاگ جائے گا۔"
سارہ کی بات پر تیمور بہت زور سے ہنسا۔
” بابا اور چھوٹے بابا کو بلا لائو ہم ناشتہ کرتے ہیں ۔"
تیمور نے اسے بھیجا اور خود باہر نکل گیا ۔وہ جانتا تھا کہ عناب ایک ہی جگہ جاتی ہے صبح کے وقت۔عناب کو عجیب سا لگائو تھا اس گارڈن سے جو ان کے گھر کے پیچھے تھا۔
_________________________________
انابیہ زمین پر سر رکھے لیٹی ہوئی تھی۔اس کے ہاتھ میں وہی نیلا گلاب تھا جو ایک اجنبی ہر ہفتے اس کے تکیے پر رکھ جاتا تھا۔
یہ اکثر فجر کی نماز کے بعد سونا صبح اس گارڈن میں آتی تھی. اس گارڈن سے اسے بہت زیادہ انسیت تھی یہاں پر خصوصا اس کے والد نے نیلے گلاب کے پودے لگائے ہوئے تھے جو دنیا میں بہت نایاب تھے.  
اس کی والدہ کی وفات کے بعد اس کے والد دنیا سے بالکل کٹ گئے تھے۔ پھر وہ اکثر یہاں گارڈن میں آکر اپنا دل بہلاتے تھے. انابیہ ان کے ساتھ جب بھی آتی اسے ایسا محسوس ہوتا جیسے یہ اپنی والدہ کے ساتھ ہے۔ اسی لیے اب اس کا روز کا معمول تھا کہ یہ اس گارڈن میں آتی.
” عناب بھیا کے بغیر یہاں کیا کر رہی ہو. “
النابغہ نے سر پیچھے کیا تو اسے اپنا بھائی نظر آیا” بھیا آپ آگئے. آپ جانتے ہیں نہ مجھے جب بھی والدہ کی یاد آتی ہے میں یہاں پر ہی آتی ہوں۔"
" عناب تم جب بھی باہر آیا کرو مجھے لازمی بتایا کرو. تم جانتی ہو کہ تم والدہ کی سب سے خوبصورت نشانی ہو میرے اور بابا جان کے پاس. “
تیمور اس کے پاس آیا جب عناب بیٹھ گئی.
” بھیا پتہ ہی نہیں چلتا کہ والدہ کو ہمیں چھوڑے ہوئے پورے پانچ سال ہوگئے ہیں. “
” ہمیں کبھی پتا چل بھی نہیں سکتا کیونکہ وہ ہمارے دل میں رہتی ہیں. عناب تم دادی جان کو بہت زیادہ تنگ مت کیا کرو. وہ تمہارے لیے بہت فکرمند رہتی ہیں. “
” بھیا وہ بے جا کی سختیاں کرتی ہیں مجھ پر۔"
تیمور نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا.” عناب وہ ہماری دادی ہیں۔ پالا ہے انہوں نے ہمیں۔ ایسے نہیں کہتے تم جانتی ہو کہ وہ ہماری والدہ کی جگہ پر ہیں۔"
" بھیا تو آپ انہیں سمجھایا کریں نا کہ میرے ساتھ اتنی سختی مت کیا کریں. آپ جاتے ہیں کل میں نے چھوٹے بابا سے کہا کہ میں نے کنسرٹ پر جانا ہے۔ دادی جان نے سن لیا اور پھر مجھے منع کردیا کہ تم گھر سے قدم باہر مت نکالنا. “
” اب اگر تم وہاں چلی گئی اور ہارون آفریدی آگیا تو پھر بتاؤ کیا تم مجھ سے لڑوں گی نہیں. تمہیں لگتا ہے نہ کہ وہ کوئی خلائی مخلوق ہے کہ تم جہاں ہوتی ہے وہ پہنچ جاتا ہے. اتنی مرتبہ تم اس سے لڑ چکی ہو دادی جان تمہاری لڑائیوں کی وجہ سے ہی پریشان ہیں. اور ویسے بھی لڑکیاں ایسے باہر رات دیر تک رہتے ہوئے اچھی لگتی. “
” بھیا سارہ میرے ساتھ جا تو رہی تھی۔ چلیں خیر تھوڑے صبح صبح ہارون آفریدی کا نام لے کر میرا موڈ خراب مت کریں. “
” مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی وہ بچارا تمہیں کبھی بولاتا بھی نہیں مگر تمہاری اس سے اتنی ضد کیوں ہے۔"
" بھیا وہ یونیورسٹی کے شروع سے ہی مجھے عجیب لگتا ہے ایسا لگتا ہے جیسے کسی نے اسے میری حفاظت کے لیے بھیجا ہے. آپ جانتے ہیں اس نے کبھی مجھے نظر اٹھا کر نہیں دیکھا. کئی مرتبہ تو وہ میرے آگے جھک کر مجھے ملا. آپ جانتے ہیں وہ مجھے بی بی بلاتا ہے۔ شکر ہے یونیورسٹی سے جان چھوٹی اس سے بھی جان چھوٹ گئی. “
” چلو چھوڑو ایسی چھوٹی باتیں تو ہوتی رہتی ہیں. میں تمہیں لینے کے لئے آیا ہوں ناشتہ کرنا ہے. “
تیمور نے اسے ہاتھ دیا اور اٹھایا. یہ تیمور خان کی لاڈلی بہن تھی. تیمور خان خود 27 برس کا تھا. عناب اس وقت 21 برس کی تھی. اس نے پنجاب یونیورسٹی سے ماسٹرز ان جرنالیزم کیا تھا. تیمور ایک بیرسٹر تھا. اس کے والد بھی ایک جانے مانے بیرسٹر تھے اور انکی لا فارم تھی. تیمور کی والدہ کو فوت ہوئے پانچ سال ہو چکے تھے. ان کی والدہ بہت خوبصورت عورت تھی اور مشہور زمانہ وکیل. ان کے گھر میں یہ اپنے چھوٹے بابا اور اپنی خالہ جوان کی چچی بھی تھی ان کے ساتھ رہتے تھے.سارہ ان کے چھوٹے بابا کی بیٹی تھی۔ سارہ ان دونوں کی رضائی بہن تھی۔ بچپن میں سارہ کو تیمور کی والدہ نے اپنی بہن سے لے لیا. انابیہ کے سارہ کو بھی دودھ پلایا جس سے وہ ان دونوں کی رضائی بہن بن گئی۔
انابیہ کی دادی نے اسے بچپن سے ہی اس کی والدہ سے لے لیا تھا اور تقریبا اس کی تربیت کرنے والی اس کی دادی جان ہی تھی.
تیمور انانیہ کو لیئے ناشتے کی ٹیبل پر آیا تو سب لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ انابیہ جاکر اپنے والد شجاع خان کے ساتھ بیٹھ گئی۔
" میرا بچہ صبح صبح کہاں پر گیا ہوا تھا۔"
شجاع خان نے اس کے سر پر بہت پیار سے ہاتھ پھیرا۔" بابا جان اسے میں گارڈن سے لے کر آیا ہوں. آپ کی لاڈلی کو گھر میں چین نہیں آتا. “
” خبردار تیمور جو تم نے ہماری بیٹی کو کچھ بھی کہا۔ بڑی منتوں اور مرادوں سے مانگی ہوئی ہے ہماری بیٹی. تم جانتے ہو جب یہ پیدا ہوئی تھی تو تمہاری والدہ نے پورے شہر میں مٹھائی بھجوائی تھی. اس کی پیدائش کے لیے ہم نے بہت منتیں مانگی ہیں تم نہیں جانتے۔"
" بابا جان تو کس نے کہا کہ میں اسے ڈانٹ رہا ہوں۔ آپ ماشاءاللہ سے یہ بڑی ہوگئی ہے پڑھائی مکمل ہوچکی ہے تو اسے آپ کسی اچھے سے اخبار میں نوکری دلوا دیجیئے. میں چاہتا ہوں کہ یہ اپنا کیریئر بنائے۔"
” تم نے اس کو کچھ زیادہ ہی کھول کر رکھا ہے لڑکیوں کے یہ کام نہیں ہوتے اب اسے چاہیے کہ گھر داری سیکھ جائے۔"
"دادی پریشان مت ہوں اس کا ہونے والے شوہر اسے بستر سے بھی اٹھنے نہیں دے گا۔"
سارہ کی بات پر دادی نے اسے اچھا خاصا گھورا۔
__________________________________
کمرے کا سرد پن اس کے مکین کا مزاج کا مزاج ظاہر کرتا۔اس کی کلائی پر نیلے رنگ کا نشان اندھیرے میں چمک رہا تھا۔اس کی نیلی آنکھیں اندھیرے میں چمک رہی تھی.
” سردار آپ نے ہمیں یاد کیا ہے. “
” ہارون ہم تم سے ملاقات چاہتے تھے بہت عرصے سے. ہم جانتے ہیں تمہاری سردارنی نے تمہیں بہت تنگ کیا ہے ان چار سالوں میں. تمہاری ہمت کی بھی ہم دعوت دیتے ہیں کہ تم نے ان کی ہر جلی کٹی بات برداشت کی ہے. “
” سردار آپ کیسی باتیں کرتی ہیں ہمارے لیے وہ معتبر ہیں. وہ ہماری ملکہ ہیں اور اپنی ملکہ کی حفاظت کرنا ہم اچھے سے جانتے ہیں ۔"
" ہارون ہم تو اس بات سے پریشان ہیں کہ جب وہ ہماری دنیا میں آئیں گی تو یہاں پر آکر کیسے اپنے آپ کو ایڈجسٹ کریں گی۔"
ہارون اسی کرسی کے سامنے ہی اپنے ہاتھ بندھے نظریں جھکائے کھڑا تھا۔
" سردار وہ سیکھ جائیں گی یہاں کے اصول. بس کچھ ہی فرق ہے ان کی اور ہماری دنیا میں. “
” ہارون ہم نہیں چاہتے جب وہ ہمارے پاس آئیں تو وہ اپنی دنیا کو یاد کریں۔ ہم جانتے ہیں جب کسی کی دنیا ختم ہوتی ہے تو اسے کتنا دکھ ہوتا ہے۔"
" سردار ہمیں یقین ہے کہ آپ کی محبت کے آگے وہ اپنی دنیا کو چھوڑ دیں گی. سردار آپ انہیں کب ہمارے لوگوں میں لا رہے ہیں. “
” بہت جلد اب ہم سے انتظار نہیں ہوتا 21 سال کا وعدہ پورا ہو چکا ہے. اب ہماری تنہا زندگی میں ہمیں ہماری شہزادی چاہیں۔ بہت جلد یہ محل شادیانوں سے گونجے گا. اس محل میں دوبارہ سے ننھے بچوں کی آوازیں آئیں گی. یہ محل اپنی ملکہ کے قدموں سے روشن ہوگا. ہماری تاریخ زندگی میں نیلا پھول ہیں وہ . ہماری نیلی شہزادی۔"
__________________________________
انابیہ کی کلائی پر نیلے رنگ کا نشان چمکنے لگ گیا جس سے انابیہ کو شدید تکلیف ہوئی۔ اس کے ساتھ بیٹھی ہوئی سارہ اس کے چہرے کو دیکھ رہی تھی جہاں پر پسینہ آ چکا تھا۔
" عناب کیا ہو گیا ہے تمہیں. تمہارا نشان پر چمک رہا ہے. “
” پتہ نہیں سارا دیکھو نہ مجھے کتنا درد ہوتا ہے . بابا بتاتے ہی نہیں کہ یہ نشان میری کلائی پر کیوں ہے۔"
" دادی کہتی ہیں کہ جب تم تین سال کی تھی تب سے یہ نشان تمہاری کلائی پر ہے. تم جانتی ہو تمہاری آنکھوں کا رنگ پہلے کچھ اور تھا پھر تمہاری آنکھوں کا رنگ نیلا ہو گیا. “
” میں خود بھی حیران ہوں سارہ آج تک میں نے یہ بات نہیں سنی۔ ایسا لگتا ہے جیسے میری آنکھوں میں لینز لگے ہوئے ہیں۔ تم جانتی ہو والدہ بتایا کرتی تھیں کہ میری آنکھوں کا رنگ سبز تھا جو بعد میں بدل کر نیلا ہو گیا. “
” تم یقین نہیں کرو گی مگر مجھے کبھی کبھی خوف آجاتا ہے تمہارے پاس نیلا پھول ہر ہفتے دیکھ کر۔نجانے کیوں ہے جو تمہیں بچپن سے یہ پھول دیتا ہے۔"
" بابا کہتے ہیں کہ تم پریشان مت ہو. وہ بہت جلدی شخص کو ڈھونڈ لیں گے جو میرے پاس نیلا پھول رکھ جاتا ہے۔ اچھا اب تو جائو مجھے نیند آرہی ہے۔"
سارہ اس کی بات سن کر اٹھ گئی۔انابیہ نے کمبل کیا اور سونے لگی۔
_________________________________
انابیہ سوگئی اور ایسی سوئی کہ اسے ہوش نہیں رہا۔کمرے میں نیلی روشنی ہر طرف پھیل گئی۔آنے والے کی کلائی پر نیلا نشان ویسے ہی تھا جیسا انابیہ کا۔دونوں کے نشان چمک رہے تھے۔
"کیسی ہو شہزادی۔کتنی کمزور لگ رہی ہو۔"
اس نے انابیہ کے ہاتھوں کو تھاما ۔اس کے نشان سے نکلی روشنی نکل کر انابیہ کے نشان میں چلی گئی۔انابیہ کمسائی ۔اس کی کلائی میں شدید درد ہوا جسے اس شخص ہاتھ رکھ کر دور کردیا۔
"میں جانتا ہوں ہمارے ملنے کا وقت قریب آرہا ہے جس کی وجہ دے یہ تکلیف دیتا ہے مگر جلد ہی تم میرے پاس ہوگی ۔پھر یہ تمہیں طاقت دے گا تکلیف نہیں. “
اس شخص نے انابیہ کے ہاتھوں کو تھاما اور بہت دیر تک تھامے رکھا۔
"میں بہت جلد تمہیں لینے کے لئے آؤنگا۔تب تک تم نے میرا انتظار کرنا ہے۔میری نیلی شہزادی۔"
اس کی انابیہ کی آنکھیں چومی۔اس کے نشان سے سفید روشنی نکلی ۔ملاقات کا وقت ختم ہو چکا تھا اسے اب اس جگہ سے جانا تھا۔ یہ اسے سے آخری نظر دیکھ کر کھڑکی کی طرف گیا۔
اس نے کھڑکی سے نیچے چھلانگ لگائی جیسی یہ ہمیشہ لگاتا تھا.
اسے یقین تھا کہ اگلی بار یہ انابیہ کو یہاں سے لے جائےگا۔

انابیہ اس وقت اپنے بھیا کے ساتھ بیٹھی ہوئی انابیہ بیٹھی ہوئی کوئی ناول پڑھ رہی تھی جبکہ تیمور اپنے کسی کیس پر کام کر رہا تھا۔ آج تیمور جلدی ہی گھر آ گیا تھا جب بھی اسے جلدی چھٹی ہوتی تو یہ کوشش کرتا کہ زیادہ سے زیادہ وقت انابیہ کے ساتھ گزارے۔
" عناب کیا پڑھ رہی ہو. “
” بھیا کچھ بھی نہیں، بیوٹی اینڈ بیسٹ پڑھ رہی ہوں۔"
" یہ افسانوی باتیں مت پڑھا کرو تم جانتی ہو کے یہ دماغ پر اچھا اثر نہیں کرتی۔ کوئی انفارمیشن والی چیز پڑھ لیا کرو جس نے تمہیں فائدہ ہو. “
” بھیا بس ایسے ہی آج دل کیا کہ کوئی ناول پڑھ لوں۔"
 ابھی یہ بات کر رہی تھی کہ اس کا نیلا نشان چمکنے لگ گیا۔ تیمور بھی اس کی طرف متوجہ ہو گیا کیونکہ اس کے نیلے نشان سے روشنی نکلنے لگی.” بھیا یہ بہت درد کر رہا ہے دیکھیں نہ۔"
 تیمور فورا سے اٹھا اور گیلا کپڑا لے کر آیا۔
 اس میں جو ہی نشان پر گیلا کپڑا رکھا وہ شدید گرم ہو گیا۔" عناب اس میں تو آگ لگی ہوئی ہے. “
 ” ایسا کیوں ہوتا ہے آپ بتائیں نہ میں انسانوں سے مختلف کیوں ہوں۔"
 ” ایسا کچھ بھی نہیں ہے یہ صرف اور صرف تمہارا وہم ہے. بچپن میں تم سخت بیمار ہو گئی تھی تم یہ بات جانتی ہو . اس بعد بات تمہاری آنکھوں کا رنگ بھی بدل گیا اور تمہارے ہاتھوں پر یہ نشان آگیا۔"
 " بھیا آپ کو پتہ ہے مجھے اکثر لوگ کہا کرتے تھے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اس کے ساتھ کوئی جن رہتا ہے. میرے نزدیک جب بھی کوئی آنے کی کوشش کرتا ہے اسے ضرور نقصان ہو جاتا تھا. بھیا آپ جاتے ہیں اسی وجہ سے کتنے لوگ مجھ سے دوستی نہیں کرتے۔"
 " یہ سب فضول باتیں ہیں جو تم ناول اور پڑھ کر اپنے دماغ میں بٹھا لیتی ہو۔ جلد ہی تم ایک رپورٹر بن جاؤں گی پھر دیکھنا لوگ تمہارے اردگرد کیسے آتے ہیں۔"
 تیمور اس کے نشان پر بار بار پانی سے گیلا ہوا کپڑا رکھ رہا تھا مگر انابیہ کو اور تکلیف ہو رہی تھی۔ اسے یہ تکلیف بچبن سے ہوا کرتی تھی جب بھی اس یہ تکلیف ہوتی اسے ایسا محسوس ہوتا کہ اس کی کلائی ہاتھ سے کٹ رہی ہے۔
 __________________________________
 نیلی آنکھوں والا شہزادہ اس وقت اپنے گھوڑے کو بھگا رہا تھا. گھوڑے کی رفتار اس قدر تیزی کے دیکھنے والا انسان اسے برداشت نہ کر پائے. اسدے جوہی گھوڑا روکا اس کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی گھوڑے کی نیل سے اس کی کلائی پر پریشان پڑگیا۔
 اسے ذرا سی تکلیف ہوئی مگر یہ جانتا تھا کہ اس کی شہزادی کو اس سے زیادہ تکلیف ہوگی.
 ” ٹائیگر تم یہ بات جانتے ہو کہ یہ تکلیف صرف مجھے نہیں ہوتی تمہاری شہزادی کو بھی ہوتی ہے. ذرا احتیاط کیا کرو جب تم رک جاتے ہو تو. “
 یہ گھوڑے سے اترا اور سامنے لگے بڑے سے پنجرے کی طرف گیا. اس میں درمیان میں بیٹھا ہوا بڑا سا شیر اسے دیکھتے ہی اس کی طرف آیا۔
 " شیرو کیسے ہو تم. “
 یہ پنجرے کا دروازہ کھولتے ہی اندر چلا گیا۔ شیر فورا اس کی طرف آیا اور اپنا سر جھکا کر اس کا استقبال کیا.
 ” میں جانتا ہوں تم بہت خوش ہو آج۔ آج 21 سال بعد تم جانتے ہو مجھے اس بات کا یقین ہو چکا ہے کہ تمہاری شہزادی بہت جلد میرے پاس آنے والی ہیں. کل میں ان سے ملا تھا تم جانتے ہو وہ اتنی کمزور ہوچکی ہیں اپنا بالکل خیال نہیں رکھتی. یہاں پر آئیں گی تو انہیں میں کوئی کام نہیں کرنے دوں گا. ویسے بھی وہ کام کیا کریں گی ان کا تو صرف اور صرف کام حکم چلانا ہے. وہ ناصرف ہمارے دل کی ملکہ ہیں بلکہ ہماری لوگوں کی بھی ۔"
 شیرو دھاڑا جس کا مطلب تھا کہ اسے اپنے مالک کی بات سمجھ آ چکی ہے.
 ہارون ایک گارڈ کے ساتھ اس کے پاس آیا. اسے اس شیر سے بڑا ہی ڈر لگتا تھا اسی خاطر وہ پنجرے کے باہر ہی کھڑا رہا۔
 " سردار آپ کو بڑے سردار نے یاد کیا ہے. “
 ” ابھی ہارون. “
 ” جی سردار وہ آپ کے منتظر ہے آپ جانتے ہیں کہ دربار لگ چکا ہے اور انہوں نے آپ سے کوئی خاص معاملہ شیئر کرنا ہے. “
 ” ٹھیک ہے میں آتا ہوں تم لوگ جاؤ. “
 یہ شیرو کی طرف بڑھا اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔" شیرو اب میں تم سے تبھی ملنے آؤں گا جب میری ملکہ میرے ساتھ ہوں گی۔"
 شیرو اس کے آگے پھر جھکا اور یہ باہر نکل گیا اور پنجرہ بند کر دیا۔
 یہ اپنے گھوڑے کے اوپر بیٹھا اور اس کا رخ محل کی طرف کردیا.
 _________________________________
 محل میں آتے ہیں بہت سارے لوگ اس کے آگے جھکے. یہ مغرورانہ چال چلتے ہوئے دربار کی طرف جانے لگا. اس وقت یہ خوبصورت سفید رنگ کے کلف والے کرتے میں ملبوس تھا. میری آنکھیں سفید رنگ کو مات دیتی تھی۔
 " سب لوگ کھڑے ہو جائیں شہزادے آچکے ہیں۔"
 اس کے باپ کے ساتھ والی خالی جگہ پر کھڑے دربار نے اس کے آتے ہی سامنے بیٹھے لوگوں کو یہ الفاظ کہے تو سب لوگ کھڑے ہوگئے.
 ” بیٹھ جائیے سب۔"
 یہ ہاتھوں کا اشارہ کر کے اپنے باپ کی طرف آیا اور نہ سر جھکا یا پھر اپنے باپ کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گیا.
 ” کیسا ہے ہمارا بیٹا. “
 ” بالکل ٹھیک باباجان. آپ نے ہمیں یاد فرمایا ہے تو ضرور کوئی اہم ہی کام ہوگا ہمیں حکم کیجے. “
 ” آج تم جانتے ہو کہ ہمارے محل کی شہزادی کو یہاں سے گئے پورے اکیس سال ہو چکے ہیں. وقت آچکا ہے کہ تم ان کو واپس لے کر آؤ. ہمیں اس محل میں اب تمہارے بچوں کو دیکھنا ہے. اب تو وہ ماشاءاللہ سے بہت بڑی ہو چکی ہیں. اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھا لیں گی۔ تم جانتے ہو کہ اگر وہ یہاں نہ آنا بھی چاہیں تو تم انہیں لے کر آؤ گے وہ اس محل کی شہزادی ہیں. ان کا رشتہ تم سے آج سے نہیں پوری 21سال سے ہے. “
 " جی بابا آپ پریشان مت ہوں. پہلے کیا گیا وعدہ ہمیں یاد ہے بہت اچھے سے. جب ہم نے انھیں پہلی بار اپنی گود میں اٹھایا تھا تو ہمیں اسی دن احساس ہو گیا تھا کہ ان کے علاوہ ہماری زندگی میں کوئی آیا آ ہی نہیں سکتا۔ ہماری نئی نئی شہزادی جب ہمارے پہلو میں بیٹھیں گی تو دنیا دیکھے گی۔ ہم بہت جلد انہیں لینے کے لیے جا رہے ہیں. “
 ” بہت خوب ہمارے شہزادے. تمہارے لوگ تم سے اپنے کچھ مسائل حل کروانا چاہتے ہیں اپنی ذمہ داری نبھاؤ. “
 ” میرے لوگ سر آنکھوں پر بابا۔ ان کا جو بھی مسئلہ ہے مجھے بتائیں میں اپنی جان لگا کر بھی اسے حل کروں گا. “
 شہزادہ اپنے لوگوں کی طرف مڑا۔ اس کے لوگ اس سے بہت محبت کرتے تھے یہ ایک رحم دل شہزادہ تھا مگر جب یہ ظلم کرنے پر آتا یا کسی ظالم کو سزا دینی ہوتی تو دنیا کانپ جاتی ۔
 _______________
 جاری ہے

Post a Comment

1 Comments

Please do not enter any spam link in the Comment Box.