Pagal Ankhon Wali Larki || Episode 15 || Sad Love Story
ناول:- پاگل آنکھوں والی لڑکی
رائیٹر:- از اشنال سید
Epi#18
Second Last
Second Last
کسی نے جان بوجھ کر وش نہیں کیا،
کسی سے اپنی سے اپنی برتھ ڈے کا کیک کٹ نہیں رہا۔
بارہ اگست۔ آج اس کا برتھ ڈے تھا،چار سال گزر چکے تھے، محبت کرنے والوں کو انتظار لاحاصل رہے گا، پھر بھی وہ انتظار کی شمع بجھنے نہیں دیتے۔
صبح سے کئی بار فون چیک کر چکی تھی کہ شاید کسی نے اسے بھولے بسرے یاد کرہی لیا ہو، شاید کوئی اپنے کہے لفظوں کی لاج رکھ ہی لے، مگر ہر دفعہ مایوسی اسے ملنے آتی۔
اس نے آنکھوں سے ہاتھ ہٹائے تو اس کی نظر ٹیبل پر رکھے گفٹ پیک پر پڑی.....
یہ گفٹ اسے شاہ کی طرف سے آج صبح ملا تھا، جسے اس نے کھولنے کی زحمت بھی نہیں کی.....
ہمیں جن کی چاہ ہوتی ہے وہ ہمیں آنکھیں سینکنے کو بھی نہیں ملتے،اور جن کی خواہش ہی نہیں ہوتی وہ ہر موڑ پر ٹکراتے ہیں۔
وہ چلتی ہوئی ٹیبل تک آئی،اور چئیر پر بیٹھ کر گفٹ پیک سے ریپر اتارنے لگی۔
پنک کلر گلیٹر شیٹ کو اس نے کھولا تو اندر ڈیری ملک چاکلیٹ رکھی تھی اور گلیٹر پیپر کی اندرونی سطح پر خوبصورت ہینڈ رائیٹنگ میں ایک عبارت لکھی تھی،
"اللہ کو کوشش کرنے والے پسند ہیں۔"
پھر نیچے"ہیپی برتھ ڈے جان شاہ" لکھا تھا۔
اور ان چیزوں کے نیچے شاید کوئی کتاب تھی، جس کا ریپر اس نے اتارا تو کتاب قرآن پاک تھی.....
شاہ نے اسے ترجمہ وتفسیر والا قرآن پاک گفٹ کیا تھا....
"اتنا خوبصورت،اس قدر قیمتی تحفہ۔" اسکی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئی تھیں.....
شاید نہیں یقیناً کسی مایوس شخص کے لیے قرآن پاک سے خوبصورت اور بہترین تحفہ کوئی نہیں ہو سکتا تھا...
اس نے قرآن پاک کو بوسہ دیا....
شاید میں تمہارے لائق نہیں ہوں سید سکندر شاہ، اس نے اقرار کیا تھا....
میں ایک بری لڑکی ہوں...
مگروہ بھول گئی تھی یہ کتاب پتھروں کو پگھلا دینے والی تھی، گناہوں کو مٹا دینے والی تھی، اسے پڑھنے کے ساتھ اسے سمجھنے کی ضرورت تھی....
_________________________
وہ اپنی سخت ڈیوٹی میں بھی اشنال کے لئے وقت نکال لیتا تھا، ہر رات وہ اسے کچھ ٹیکسٹ کرتا، جس کا وہ جواب دینا تو دور سین کرنا بھی پسند نہیں کرتی۔
شاید وہ خود سے مانوس کرنا چاہ رہا تھا، اسلئے یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ اس سے اکتائی ہوئی ہے، شاہ اسے اکیلا نا چھوڑتا۔
شاہ کے میسجز کے جواب اشنال کی خاموشی ہنوز برقرار تھی، جسے وہ توڑنا چاہتا تھا۔
پھر وہ آہستہ آہستہ اسکے میسجز سین کرنے لگی تھی،یہ بات شاہ کے لیے غنیمت تھی۔
عورت بھی عجیب ہے جب کسی سےٹوٹ کر محبت کرتی ہے تو اسی کی ہو جاتی ہے، اس کے علاؤہ کسی اور کا ہو پانا اس کے لیے مشکل کیا ناممکن ہوتا ہے، بدلے میں وہ شخص دھوکا ہی کیوں نہ دے دے مگر پھر بھی اسی کی چاہ کرتی ہے، اس کے بعد آنے والی کسی کی انتہا کی محبت کی بھی پرواہ نہیں کرتی۔
اشنال بھی یہ ہی کر رہی تھی اپنی محبت کی خود غرضی میں وہ شاہ کا امتحان لے رہی تھی، اس کی محبت کی پرواہ نہیں کر رہی تھی، مگر کب تک اس نے سوچ لیا تھا زئی کو زندگی سے نکالنا ہے، بھولنا ہے اسے، وہ یہ بھی جانتی تھی کہ ایسا کرنے میں لگے گا۔
وہ وقت ہی تو چاہتی تھی آگے بڑھنے کے لیے، وہ نہیں چاہتی تھی کہ دل میں زئی کو رکھ کر کسی اور کی نہیں ہو سکتی تھی، مگر گھر والوں نے اس کی ایک نہ سنی،
اور شاہ کے ساتھ اس کو جوڑ دیا۔
_________________________
وہ اسے آہستہ آہستہ ڈپریشن سے نکالنے لگا تھا..... وہ خود بھی کوشش کرنے لگی تھی کہ وہ اس رشتے کو قبول کر لے.....
مگر اس کے لیے تھوڑا مشکل تھا۔
اشنال کا فون مسلسل بج رہا تھا، وہ جانتی تھی کس کی کال ہے، مگر وہ فلحال کسی سے بات کرنے کے موڈ میں نہیں تھی۔ صبح سے عجیب بے کلی سی چھائی ہوئی تھی اس کے وجود پر۔
اس نے انباکس کھولا۔ اشنال کال ریسیو کریں، کا میسج پڑا تھا۔
وہ شاید تھک گئی تھی، یا پھر ہار گئی تھی کہ آج وہ ٹیکسٹ ملنے پر خاموش نہیں رہ سکی، اور جواباً لکھ بھیجا۔
"میری طبیعت نہیں ٹھیک ہے،پھر بات کرونگی۔"
"اشنے کال اٹھاؤ۔" پھر اصرار ہوا۔
وہ دیکھنا چاہتی تھی کہ اسکی بات مان کر اسے کیسا محسوس ہونا تھا....
جس کا نمبر سیل پر چمکتا دیکھ کر دل پر تپتی ریت بچھ جاتی تھی، آج اس کا نمبر اس نے شاہ کے نام سے سیو کرلیا تھا.....
اب کی بار بیل بجنے پر کال ریسیو کرلی گئی.....
"سر میں درد ہے؟" شاہ نے پوچھا۔
" ہممممم۔"
"میڈیسن لی"؟
"جی-"
آنکھیں بند کرو اشنے۔" شاہ نے ریکوئسٹ کی۔
اسے گھبراہٹ ہونے لگی.....
"میں بعد میں کال کرو..."
"اشنے آنکھیں بند کرو۔" شاہ نے حکم دیا۔
اشنال نے ہینڈز فری لگا کر آنکھیں بند کر لیں اور سر تکیے پر رکھ دیا....
کچھ دیر دونوں طرف خاموشی چھائی رہی۔ پھر اسے ایسی آواز سنائی دی جس سے اس کا دل ایک لمحہ کے لئے لرزا۔
الرحمٰن علم القرآن ۔
شاہ اپنی خوبصورت آواز میں اسے سورت رحمٰن کی تلاوت سانے لگا۔
بلاشبہ وہ ایک بہترین قاری تھا، اسکی آواز بہت خوبصورت تھی، زئی کی آواز کو بیٹ کرتے ہوئے...
اس کی آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے۔
"فبای الاءربکما تکذبان ۔
پھر وہ ہچکیوں سے رونے لگی۔
یہ مرد کی کونسی صورت تھی،یہ اللہ کا کونسا تحفہ تھا، کیا یہ اللہ کے راضی ہونے کی نوید تھی، کہ وہ اسے اس چیز سے نوازنے جارہا تھا، جس کے وہ لائق بھی نہیں تھی؟
ایک آواز اس نامحرم کی تھی جو دل کا محرم تھا، جسے سن کر اکثر نازیبا گفتگو کانوں سے دھوئیں نکال دیتی...
ایک آواز اس محرم کی تھی،جسے سن کر خوف سے آنسو جاری ہوئے تھے...
اب وہ آواز سے رونے لگی...
شاہ اسے رولانا ہی چاہتا تھا، رونے سے دلوں کے بوجھ کم ہو جاتے ہیں، اور جو آنسو تلاوت قرآن کریم سن کر نکلیں وہ دلوں میں میل کو کھرچ لیتے ہیں۔
شاہ یہی چاہتا تھا کہ اشنال کے دل کے سارے میل دھل جائیں۔
"اور ہماری آیتیں ان کے سامنے جب پڑھی جاتی ہیں تو ان کی آنکھیں روتی ہیں، ان کے دل روتے ہیں۔"
شاہ نے تلاوت کی ختم کی اور چپ چاپ اس کی سسکیاں سننے لگا، وہ روتی رہی، روتی رہی، وہ رونا سنتا رہا....
کتنی اذیت میں تھی وہ پہلی بار اس نے جانا تھا....
"جان شاہ۔" اللہ ہے ناں ہمارے ساتھ۔"
وہ آواز پھر دلاسہ بن کر آئی ۔
وہ ناراض ہے مجھ سے۔"
وہ محسوس کر سکتا تھا کہ رونے سے اس کی آواز اور بھی خوبصورت ہو گئی تھی۔
اسے کہومان جائے، وہ مان جاتا ہے اشنے، بس وہ چاہتا ہے کہ اس کے آگے اپنی غلطیوں کا اعتراف کرو، تھوڑا سا رو لو۔"
میں بہت بری ہوں، بہت خراب، وہ روٹھا ہے مجھ سے کب سے، شاید اس رات سے جس رات میں جاگتے ہوئے بھی بےحسی کا ثبوت دیتے ہوئے اس سے رجوع نہیں کیا۔
اس سے بےپروا رہی۔ آج وہ بھی مجھ سے ناراض ہے،روٹھ گیا ہے۔
میں روز معافی مانگتی ہوں مگر وہ ابھی بھی مجھ سے ناراض ہے۔
جب وہ مجھے ساری رات بلاتا رہا، میں روتی رہی مگر اٹھ کر اس تک نہیں گئی، میں بے حس بن گئی تھی شاہ۔"
اشنے وہ تو غفور ہے،رحیم ہے، اسکا کہنا ہے،
اگر تم روئے زمین کو اپنے گناہوں سے بھر کر بھی مجھ سے معافی مانگو گے، تو میں تمہیں معاف کر دونگا۔
ہم انسانوں کو منانے کیلئے سالوں انکے در کی خاک چھانتے ہیں، رب کو منانے کیلئے کچھ لمحے چاہیے ہوتے ہیں، وہ لمحوں میں مان جاتا ہے اشنے۔
اللہ پر گمان نہیں یقین رکھو........ سب ٹھیک ہوجائے گا۔"
وہ اس کے آنسو اپنی آواز سے چن رہا تھا۔
محبت،چاہت، اور خلوص کا یہ سب سے خوبصورت احساس تھا...
اس رات دونوں نے کال کٹ نہیں کی، وہ روتی رہی کافی دیر، اور وہ سنتا رہا کافی دیر....
_________________________
دنیا میں ہمارا جیسے شخص سے واسطہ پڑتا ہے، اسکے بعد ہم باقی ساری دنیا کو اسی کی سامنے رکھ کر دیکھتے ہیں، پھر ہمارے لئے ساری دنیا اس ایک شخص جیسی ہوجاتی ہے، پھر ہم ہر شخص کو اسی جیسا سمجھنے لگتے ہیں، مگر ہر کوئی ایک جیسا نہیں ہوتا، ناہی ہمیں ہر ایک تو اس ایک جیسا سمجھ لینا چاہیے.....
کچھ مرد شاہ جیسے بھی ہوتے ہیں۔ دونوں ہی مرد تھے، دونوں کی پسند بھی ایک تھی، دونوں ہی بلا کے حسین تھے، دونوں ہی کی آواز خوبصورت تھی،
اگر کچھ جدا تھا دونوں میں تو وہ بس گفتگو تھی، کردار تھا، خلوص تھا،سچائی تھی، پاکیزگی تھی۔
شاہ محرم تھا اسکا مگر اس سے کوئی ایسا مطالبہ نا کرتا جیسا زئی اس سے کرتا تھا،اور پورا نہ ہونے پر دل سے اتار پھینکتا تھا۔
واقعی دنیا میں شاہ جیسے مرد بھی رہتے ہیں، ہاں بس ان کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے.....
_________________________
اشنے چائے پیو گی؟"
شڑپ شڑپ..... سے وہ محسوس کرسکتی تھی کہ وہ چائے دل سے پی رہا ہے، یا تو وہ جان کر ایسا کرتا تھا، یا شاید وہ چائے پیتا ہی ایسے تھا کہ ہر سپ سنائی دیتا....
"میں چائے نہیں پیتی...." سادے لفظوں میں گم صم سی آواز گونجی۔
"چائے بنانا تو آتی ہے نا؟"
وہ خاموش رہی۔
میں چاہتا ہوں میری بیوی ایسی ہو جسے میں آدھی رات کو جگا کر بھی کہوں کہ چائے بنالاؤ، تو وہ انکار نا کرے، سخت سردی میں بھی وہ آنکھیں رگڑتی اٹھے اور کچن میں جاکر چائے بنا لائے۔"
وہ پھر خاموش رہی، شاہ اس کے اندر چھائی اداسی محسوس کر رہا تھا، جبھی اس کا دل بہلانے کو سارے دن کی سخت ٹریننگ کے بعد تھکن محسوس کرتے ہوئے بھی لائن پر تھا۔ شاہ کیلئے یہ غنیمت تھا کہ وہ اسے سن رہی ہے، اس نے پھر کوشش کی....
"کیا اشنے میرے لیے آدھی رات کو سخت سردی میں چائے بناسکتی ہیں؟"
"نہیں!" سرد لہجے میں سرد سے انکار پر وہ ہلکا سا مسکرایا....
"میرے کچن میں چھپکلیاں نہیں ہیں، قسمے، ہاہاہا....."
وہ ہنسا مگر اشنال کی اگلی بات پر اسکی ہنسی کو بریک لگ گئے....
"نفرت ہے مجھے تمہاری آواز سے، زہر لگتی ہے مجھے تمہاری ہنسی۔ تمہیں ہنستا دیکھ کر دل چاہتا ہے تمہارا منہ نوچ لوں۔
کیسے ہنس لیتے ہوتم اتنا، دوسروں کو اتنا رلانے والے خود کیسے بے فکری سے ہنس لیتے ہیں؟
تمہیں ڈر نہیں لگتا اپنے ہنسنے سے؟ تم نے میری ہنسی چھین لی ہے زئی۔"
میری زندگی کو تباہ کردیا۔ میرے وجود کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے تم کیسے سکون میں ہو۔ تمہیں خدا کا ذرہ خوف نہیں ہیں۔
وہ لاشعوری طور پر زئی سے مخاطب تھی، اور وہ سمجھ چکا تھا۔
شاہ نے اسے روکا نہیں،بولنے دیا۔
وہ کئی سالوں کا کرب اپنے دل میں دبائے گھٹ گھٹ کر مر رہی تھی، وہ چاہتا تھا کہ اشنے اپنا سارا غبار نکالے، وہ چیخے اور اپنی ساری اذیت نکال دے۔اس نے اذیت کو دل میں دفن کر رکھا تھا، جس سے اس کا وجود اندر سے مر گیا تھا۔
شاہ چاہتا تھا کہ وہ زندہ ہوجائے، کافی دفعہ وہ حد کر دیتی، اسے لگتا وہ ہمت ہار جائے گا، مگر پھر ایک نیا خواب اسے نئے سرے سے راستہ دکھا دیتا....
اب وہ رو رہی تھی ، ہچکیوں سے،وہ اسے روز ننھے بچوں کی طرح سسکتا سنتا رہتا، اس کا بس نہیں چلتا وہ زئی کا پتا ڈھونڈ کر اس کی کھال ادھیڑ ڈالتا۔
"اشنے." شاہ نے اسے پکارا۔
"پلیز لیومی الون۔" روتے ہوئے ہی اس نے کال کٹ کردی...
"میں تمہیں اکیلا ہی تو نہیں چھوڑ سکتا، جان شاہ۔"
ہتھیلی کامکابنا کر اس نے دیوار پر مارا، اور سر کو دونوں ہاتھوں میں تھام کر بیٹھ گیا.......
اسے کسی سے محبت تھی ،اور وہ میں نہیں تھا۔
یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی.....
___________________________
وہ جانتی تھی وہ غلط کر رہی ہے مگر وہ زئی کے آگے خود کو بے بس سا محسوس کرتی یا شاید اس نے خود کو بےبس بنا دیا تھا۔
وہ آج پھر تہجد میں روئی تھی،اس نے آج پھر اللہ سے معافی مانگی تھی، التجاء کی تھی کہ وہ اس سے راضی ہو جائیں۔
ہم ہمیشہ مشکل میں اپنے آپ کو خود ڈالتے ہیں،مگر پھر اس مشکل سے خود نکل نہیں پاتے، کسی طرح بھی نہیں، چاہے بھی تو نہیں۔
کیونکہ ہم صرف چاہ رہے ہوتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ہم چاہیں اور ہو جائے، ایسا تھوڑا ہی ہوتا ہے، کچھ ہونے کیلئے کچھ کرنا پڑتا ہے...
یہاں ہم کوشش کرتے ہیں دل سے، وہاں پھروہ اللہ ہی ہوتا ہے،جو ہمیں اس مشکل سے نکال دیتا ہے....
پہلے وہ خود نکلنا نہیں چاہتی تھی، لیکن اب وہ خود ہی نکلنا چاہ رہی تھی مگر نکل نہیں پارہی تھی.....
بس اسے رب کو منانے میں تھوڑی سی کوشش اور کرنی تھی، اوراس نے مان جاناتھا.....
کیونکہ وہ رب ہے وہ مان جاتا ہے....
اور اللہ پر گمان نہیں یقین رکھو..…
________________________
پہلا دن گزرا، دوسرا، تیسرا، اور کرتے کرتے چھ دن گزر گئے، شاہ کا کوئی ٹیکسٹ نہیں آیا۔
وہ شاید ناراض ہوگیا تھا،
اسے ہونا بھی چاہیے تھا.....
اشنال اس کا لایا ہوا قرآن تفسیر سے پڑھنے لگی، بہت سی باتیں جو ہماری نظروں سے گزرتی ہیں جنہیں ہم اگنور کردیتے ہیں، انہیں اب وہ سمجھنے لگی تھی.....
شاید وہ زندگی کو سیکھنے لگی، اس نے موت مانگ کر دیکھا تھا، ایک عرصہ وہ مرنے جینے کی کیفیت میں رہی مگر مکمل مر نہیں پائی۔
اس کے ساتھ بہت سے لوگ اسے دیکھ دیکھ کر مرتے رہے اور وہ اپنے ساتھ انہیں بھی اذیت دیتی رہی....
مگر اب اسے جینا تھا ان سب کے لیے جو اسے جیتا دیکھنا چاہتے تھے۔
وہ بہت رولی تھی مگر اب ہنسنا چاہتی تھی، اپنی ہنسی..
زئی کو بھلانا مشکل تھا، مگر ناممکن نہیں، کوشش کی جاسکتی تھی،اس نے کی تھی، وہ کر رہی تھی....
لیکن کوئی جان نہیں سکتا تھا وہ کتنا مر رہی تھی، اپنے اندر موجود زئی کو مار دینا آسان نہیں تھا....
وہ زئی کی سوچوں سے چھٹکارا پانے کیلئے شاہ کی سوچوں میں خود کو گم کرنے لگتی.....
یہ بھی تو بے بسی ہے نا، کسی کو محبت کو دفن کرکے خود کو کسی اور کی محبت میں زندہ رکھنا....
وہ گیسٹ روم میں جاکر شاہ کی خوشبو کو ڈھونڈتی، مگر وہ وہاں ہوتی تو ملتی، جب ہم منہ موڑ لیتے ہیں، تو خوشبوئیں بھی روٹھ جاتی ہیں...
اس سے کچھ اچھا ہونے کی کوشش میں سب کچھ خراب ہورہا تھا۔
وہ پھر رونے لگی تھی...... وہ روہی سکتی تھی....
"I want someone to see the Dark parts of my mind, the messy, the destructive, and still choose to stay."
________________________
مسلسل چھ دن سے جاری شدید سر درد نے اسے نڈھال کر رکھا تھا، کسی طور آرام نہیں آرہا تھا۔ ابھی وہ بستر سے اتری ہی تھی کہ اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھایا اور چکرا کر فرش پر گر پڑی.....
مائیگرین شدت اختیار کر گیا تھا....
پچھلے چھ گھنٹوں سے وہ ہاسپٹل روم میں بےہوش پڑی تھی، آہستہ آہستہ اسے ہوش آنے لگا تھا، اس نے آہ بھری تو سانس کے ساتھ کوئی مانوس سی خوشبو اس کے حلق تک پہنچی......
یہ وہی خوشبو تھی جس کی مہک اس کے حلق تک لکھ دی گئی تھی، جسے اس نے اپنے آس پاس بہت ڈھونڈا مگر ملی نہیں... اب وہ خوشبو اسے زندگی کی نوید سنا رہی تھی.......
ابھی مجھ میں کہیں،باقی تھوڑی سی ہے زندگی
جگی دھڑکن نئی..... جانا زندہ ہوں میں تو ابھی
___________________
اس نے بے اختیار پکارا۔
" شاہ۔"
شاہ جو اس کی حالت دیکھ کر نڈھال سا کھڑا تھا، اپنے نام کی پکار پر بھاگتا ہوا اس کے قریب آیا، اور اس کے قریب بیٹھ گیا
شاہ نے اشنے کے منہ سے اپنا نام سنا تو اس کی بےجان سی جان میں جان آئی تھی........
کچھ ایسی لگن س لمحے میں ہیں
یہ لمحہ کہاں تھا میرا...!!
اب ہے سامنے، اسے چھو لوں زرا
مر جاؤ یا جی لوں زرا....!!!
خوشیاں چوم لوں، یا رو لو زرا
مر جاؤ یا جی لوں زرا.....!!!
ابھی مجھ میں کہیں باقی
تھوڑی سی ہے زندگی......!!!!
_________________________
وہ بند آنکھوں سے اسے اپنے پاس محسوس کرسکتی تھی...
اس نے پھر پکارا تھا....
" شاہ۔"
"جی جان شاہ۔"
اور محبتوں میں لاڈ اٹھانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی.....
"میں، میری آنکھیں نہیں کھل رہیں شاہ۔"
درد نے اس کی آنکھوں پر اٹیک کیا تھا، کہ وہ روشنی سے گھبرانے لگی تھیں۔
شاہ تھوڑا اداس ہوا تھا، مگر اسے اشنے کی ہمت بنا تھا۔
سب ٹھیک ہو جائے گا۔"
شاہ نے اس کا ہاتھ تھام کر گالوں سے مس کیا..
اس لمس کو پاتے ہی اس کے آنسو کناروں کی صورت اتر آئے تھے۔
دوسری بار اسکا لمس محسوس کررہی تھی، پہلی بار اسے اس لمس پر وحشت ہوئی تھی، اب کی بار اس لمس پر اسے سکون ملا تھا۔
بلاشبہ شاہ کا لمس اس کیلئے زندگی جیسا تھا....
دھوپ میں جلتے ہوئے تن کو
چھایا پیڑ کی مل گئی....!!!
روٹھے بچے کی ہنسی جیسے
پھسلانے سے پھر کھل گئی....!!!
کچھ ایسا ہی اب محسوس دل کو ہو رہا
برسوں کے پرانے زخم پہ مرحم لگا سا ہے..!!!
__________________________
آج آس سکون کو پا کر وہ رو دی تھی جیسے زندگی پھر سے ملی ہو......
شاہ نے ان آنسوؤں کو تکیے پر گرنے سے پہلے ہی اپنی پوروں پر چن لیا تھا.....
کچھ ایسا رحم اس لمحے میں ہیں
یہ لمحہ کہاں تھا میرا.....!!!!
اب ہے سامنے ،اسے چھولوں زرا
مر جاؤ یا جی لوں زرا....!!!! خوشیاں چوم لوں، یا رو لوں زرا
مر جاؤ یا جی لوں زرا...!!!!
________________________
"اشنے۔"
وہ بولا تو اس کی آواز میں یوں لگا جیسے تیز ہوا سے سچی محبت کے بجھے دئیے جل اٹھے ہوں.....
اشنال نے پھر آنکھیں کھول کر اسے دیکھنا چاہا، مگر روشنی نے راستہ روک لیا......
تم جانتی ہو اشنے؟ رات مجھے لگا کسی نے میری سانس روک لی ہوں،
مجھے لگا تھا شاہ مر گیا ہو جیسے،
کیوں کیا تم نے ایسا؟"
اس کی آواز میں دکھ تھا، گلہ تھا، ناراضگی تھی....
سارے مرد ایک سے نہیں ہوتے یہ اسے شاہ نے سکھایا تھا...
پھر شاہ نے اسکی تھوڑی کو سختی سے پکڑا اور سخت لہجے میں کہنے لگا....
بہت ہوگیا، تم ایسے نہیں سدھرنے والی، اور اب میں بھی تمہیں کوئی مہلت نہیں دینے والا۔
مجھے انتہائی فیصلہ کرنے پر مجبور کر دیا ہے تم نے۔"
تھوڑی چھوڑ کر.....
وہ اس پر جھکا اور اپنے لب اس کے ماتھے پر ثبت کر دئیے......
اور پھر وہ اس کمرے سے نہیں ہاسپٹل سے بھی چلا گیا تھا....
ڈور سے ٹوٹی پتنگ جیسی
تھی یہ زندگانی میری...!!!
آج ہو کل ہو میرا نا ہو
ہر دن تھی کہانی میری..!!!!
اک بندھن نیا سا پیچھے سے
اب مجھ کو بلائے........!!!!
آنے والے کل کی کیوں
فکر مجھ کو ستا جائے....!!!
اک ایسی چبھن اس لمحے میں ہیں
یہ لمحہ کہاں تھا میرا.....!!!
اب ہے سامنے اسے چھو لوں زرا
مر جاؤ یا جی لوں زرا.....!!!
خوشیاں چوم لوں یا رو لو زرا
مر جاؤ یا جی لوں زرا.....!!!
اشنے اپنی بےبسی پر رودی تھی، جب وہ پاس تھا تو وہ اسے دیکھنا نہیں چاہتی تھی، اب دیکھنا چاہتی تھی تو آنکھیں کھلنے سے انکاری ہو گئیں تھیں........
روتے روتے وہ مسکرا دی۔
کہ اس کے ماتھے پہ سلگتا وہ لمس اسے یقین دلا گیا تھا کہ......
وہ جو روٹھ کرجو گیا ابھی،
ہاں وہی میرا ہے، صرف میرا......
اور بےشک، اللہ کی چاہت پر راضی ہولینے میں سکون ہی سکون تھا
ہاسپٹل سے وہ کل ڈسچارج ہوئی تھی،اور آج پہلی بار اشنے نے اسے کال کی تھی....
پہلے تھوڑی جھجھک ہوئی۔ پھر یہ سوچ کر کے حق رکھتی ہوں اب میں اسے کال ملائی.....
"شاہ۔"
"جی جان شاہ۔"آج کیسے یاد آگئی، لگتا ہے سورج مغرب سے نکلا ہے۔
"شاہ....."
اگر آپ ایسے تنگ کریں گے تو میں بند کردوں گی کال۔
اچھا اچھا سوری......
اچھا بات سنے۔؟
جی حکم کریں...؟
شاہ، امی سے کہیں آپ مجھے کہیں لے کر جانا چاہتے ہیں۔"
وہ حیران ہوا۔
"کیوں بھئی، کہیں جانا ہے آپ نے؟"
"جی جانا ہے۔"
"کہا جانا ہے؟"
پہلے آپ امی سے پرمیشن لیں، پھر بتاؤں گی۔"
"اچھا ٹھیک ہے۔"
پھر وہ اور شاہ امی سے پرمیشن لے کر گھر سے نکلے، شاہ کی مرسیڈیز جب اشنال کے ایریا سے نکلی تو شاہ نے خانوشی کوتوڑا۔
"جی تو بتائیے کہاں جانا ہے؟"
"قبرستان!"
"وہ چونکا۔
"جی قبرستان؟"
اشنال نے پھر دہرایا....
فرسٹ ڈیٹ ایٹ قبرستان، واؤ، انٹرسٹنگ پہلی بار سنا ہے۔"
وہ گھوری۔
ہم ڈیٹ پر نہیں جارہے۔"
اللہ خیرابھی تو میری شادی بھی ٹھیک سے نہیں ہوئی۔"
وہ پھر سے شرارت کر گیا۔
"شاہ۔"
"جی جان شاہ۔"
"آپ تھوڑی دیر خاموشی سے گاڑی چلائیں، قبرستان چل کر بتائی ہوں کہ کیا کرنا ہے۔"
"اوکے، جو حکم جان شاہ۔"
پھر قبرستان پہنچ کر انہوں نے گاڑی کچے میں پارک کی، اشنال اتر کر بہت ساری بنی ہوئی قبروں کی طرف جانے لگی، شاہ بھی اسکے پیچھے ہولیا۔
ایک جگہ رک کر وہ شاہ سے۔مخاطب ہوئی۔
"آپ وہ لے آئے تھے شاہ،جو میں نے منگوایا تھا؟"
"لے آیا ہوں، مگر.....؟
ایک بیلچہ مل جائے گا؟" وہ اس کی بات کاٹ کر بولی۔
"شاہ ایک لمحے کو ساکت ہو گیا۔ اس کی سانس رک گئی تھی۔
شاہ کو لگا یقیناً وہ پاگل ہوچکی ہے۔
کیا..... کیا کرنا ہے بیلچہ۔
اس نے بوکھلائے ہوئے انداز میں پوچھا۔
کیونکہ وہ سمجھ نہیں پارہا تھا کہ اشنے کر کیا رہی ہے۔
آپ پہلے بیلچہ لے کر آئے...... شاہ اسے رک کر دیکھنے لگا۔
"شاہ۔" آپ سے ہوں بیلچہ لے کر آئے۔
کیا کرنا کیا چاہ رہی ہو؟"
وہ عبایا میں تھی اور شاہ نقاب سے اسکی آنکھیں دیکھ سکتا تھا، وہ جھکی ہوئی تھی.....
"پاگل آنکھوں والی لڑکی کو دفن کرنا ہے۔"
شاہ دو قدم پیچھے ہوا تھا اور لب بھینچ لئے تھے.....
_______________________
آپ نے سنا ہوگا ناں شاہ، جنہیں بے دردی سے قتل کرکے لاوارثوں کی طرح پھینک دیا جاتا ہے۔
ان روحوں کے جنازے نہیں پڑھے جاتے وہ زمین پر بھٹکتی رہتی ہیں، پھر وہ اپنے ساتھ دوسروں کے لیے بھی پریشانی کا باعث بن جاتی ہیں۔
نہ خود ان کو سکون ملتا ہے اور وہ دوسروں کو لینے دیتے ہیں۔
مجھے پاگل آنکھوں والی لڑکی کی تدفین کرنی ہے، تاکہ اس کے ساتھ سب سکون میں آسکیں۔"
شاہ آنکھیں سختی سے بند کر کے سانس کھینچا، اورپاس سے جاتے گورکن کو آواز دے کر بیلچہ منگوا لیا....
اشنال نے بیلچہ اس کے ہاتھ سے لے کر خود کھدائی شروع کر دی۔
خواب میرے تھے، چاہتیں میری تھی، خواہشیں میری تھی، بے پنا محبت میری تھی، قبر بھی مجھے کھودنے دیں۔"
اشنے پلیز ایسا مت کرو، "تم نہیں جانتی پاگل آنکھوں والی لڑکی" میرے لئے کیا تھی۔
ایسا مت کرو، مجھ سے یہ برداشت نہیں ہو رہا، پلیز مت کرو۔
شاہ کے دل میں ایک درد سا ہوا تھا یہ سب دیکھ کر۔
ایسے لگا جیسے کسی نے اس کے دل پر پیر رکھ دیا ہو.....
آپ کی" پاگل آنکھوں والی لڑکی" آپ کے سامنے کھڑی ہے، میں تو زئی کی"پاگل آنکھوں والی لڑکی"کو دفنا رہی ہوں۔"
کچھ دیر کمر پر ہاتھ رکھے اسے گھورتا رہا، پھر تھوڑا سا پیچھے ہٹ کر گاؤں سے پشت لگا کر کھڑا ہوگیا.... وہ بےبس اسے قبر کھودتے دیکھے گیا۔
______________________
جب ایک سا سوراخ ہوگیا تو اشنال نے اپنے بیگ میں سے کاغذوں کا ایک ڈھیر نکالا،اور شاہ سے بولی۔
یہ وہ کاغذ ہیں شاہ، جن پر پاگل آنکھوں والی لڑکی نے کچھ کراچی کے اور کچھ ایبٹ آباد کے کئی ایک سال تک میں ایک ہی نام لکھا تھا، زئی۔"
وہ ساتھ ساتھ کاغذوں کو پھاڑتی اور قبر میں بھرتی جارہی تھی۔
جانتے ہو شاہ۔"
ہم مشرقی لڑکیوں کی زندگی ایک چار دیواری تک محدود ہوتی ہے۔ جہاں ماں باپ بہن بھائیوں کی محبت ہوتی ہے، اور وہ اپنی چھوٹی سی دنیا میں خوش ہوتی ہیں، مگر کہیں نا کہیں ایک اور محبت بھی ان کے دل میں پلتی ہے ، اور وہ محبت کسی کے چاہے جانے کی ہوتی ہے۔
کسی کی محرم بن کر اس پر دل سے یقین کرکے ،اسے اپنا مان سمجھ کر، اس پردل سے یقین کرکے، اسے اپنا مان سمجھ کر اس پر ساری محبت،ساری زندگی لٹانے کی ہوتی ہے، یہ چھوٹے چھوٹے سپنے اس چار دیواری تک محدود رہتے ہیں۔
اس چار دیواری میں رہنے والی لڑکیوں کی دنیا بہت پاک ، صاف، اور سچی ہوتی ہے، اور جب کوئی اس چار دیواری کی دنیا میں باہر کا شخص آکر، خوبصورت خوبصورت لفظوں کے جال بنتا ہے، تو وہ لڑکی ان لفظوں کو سچ سمجھ کر اس کی محبت کے جال میں پھنس جاتی ہے۔ وہ شخص اس کو جھوٹی آس امید دلاتا ہے،اور وہ اندھی ہو کر یقین کرنے لگتی ہے.......
اور اس کے لفظوں کو سچ سمجھ کر اس کی محبت کے جال میں پھنس جاتی ہے۔ اس کے ساتھ کچھ وقت گزار کر وہ دنیا بھر کے خوبصورت سپنے سجانے لگتی ہیں۔
اپنے آنے والی زندگی کے خوابوں کو اس کے ساتھ جوڑ لیتی ہیں،وہ سمجھ لیتی ہے کہ یہ ہی میرے لئے سب کچھ ہے، میری زندگی کا ساتھی، میرا ہمسفر،.....
اس کی آنکھوں پر مکمل پٹی بند جاتی ہیں، وہ سچی ہوتے ہوئے بھی اچھی ہوتے بھی ایک بری اور جھوٹی لڑکی بن جاتی ہے، کیونکہ وہ اپنی جرم دار خود ہوتی ہے۔
اپنی دنیا سے وہ خود قدم باہر نکالتی ہے، وہ اپنی محبت کے سمندر میں اس قدر ڈوب جاتی ہیں کہ وہ سمجھ ہی نہیں پاتی کہ مقابل شخص اس کے ساتھ کھیل رہا ہے، اس کے جذبات کو صرف ایک کھلونا سمجھ کر توڑنے والا ہے.....
شاہ اکثر اوقات وہ ان کی سچائی جان بھی جاتی ہیں نا تو وہ انجان بن جاتی ہے، جانتے ہو کیوں؟
کیونکہ وہ اس قدر محبت میں ڈوب جاتی ہے کہ اس کے لیے اس فریبی شخص کے بنا جینا مشکل ہوجاتا ہے، وہ نا چاہتے ہوئے بھی اس کی طرف کھنچی چلی جاتی ہے، کیونکہ جس کو کسی کے لفظوں کی عادت ہو جائے ،یا کانوں کو سماعتوں کی عادت ہو جائے تو ان کے لئے اس کے بغیر رہ پانا مشکل ہوجاتا ہے.وہ نہیں رہ پاتی اس کے بنا... دو پل بھی وہ دور ہو تو ان کی جان پر بن جاتی ہے......وہ رہ ی نہیں پاتی اس کے بنا، اس قدر پاگل ہو جاتی ہے،بہک جاتی ہیں کہ اس کی سچائی جان کر بھی اسے موقع دیتی ہے.... مگر درحقیقت وہ خود کو ایک ٹھوکر کےلئے راہ میں رکھ دیتی ہے۔
جب وہ شخص یہ جان لیتا ہے کہ اب یہ میرے نہیں رہ سکتی، تو وہ خوش ہوتا ہے جیسے شکاری جال میں پھنسے ہوئے شکار کودیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ اسی طرح وہ اپنی تمام تر حوس پرست خواہش کو مکمل ہوتے دیکھتا ہے۔ اور وہ اپنی ہر بات منوا لیتا ہے۔
شاہ کچھ لڑکیاں اپنی اندھی محبت میں اس قدر بہک جاتی ہیں کہ اپنی عزت تک کی بازی لگا دیتی ہے، اس محبت نام کےدھوکے فریب میں۔
یہ محبت تو نہیں بس محبت کا ماسک پہن کر ہوا کی بیٹی کی عزت کو تارتار کیا جاتا ہے، اس کے سپنوں کے ساتھ کھیلا جاتا ہے، اس کو زندہ لاش بنایا جاتا ہے، اور پھر اس لاش جو لاوارث چھوڑ دیا جاتا ہے۔
شاہ اس چھوٹی سی دنیا میں رہنے والی لڑکیوں کی زندگی تو اس محبت سے شروع ہوکر محبت پر ختم ہوجاتی ہے۔ وہ اپنی تمام تر خواہشات اس شخص کے ساتھ جوڑ دیتی ہے۔
مگر بدلے میں اسے کیا ملتا ہے.....؟
دھوکا،
فریب،
وجود کے ٹکڑے،
خواہشات کی کرچیاں،
عزت نفس کا جنازہ۔
_____________________
وہ کاغذوں کے ٹکڑے کرنے کے ساتھ ایک نظر ان کو دیکھ بھی رہی تھی۔
ان میں کچھ کاغذوں پر لکھا تھا.....
"زئی کین آئی کال یو مائن.؟"
کچھ پر لکھا تھا۔
"Eshnaal, i am All yours.
کچھ پر "اشنال زئی" لکھا تھا....
ان میں سے کچھ کاغذوں پر یہ بھی لکھا تھا کہ ایشے تم میری زندگی ہو۔
کچھ پر لکھا تھا.....
"All night, i' ve waited for you, Eshy!"
کچھ پر لکھا تھا....
تم جیسی لڑکیاں میری زندگی میں اگزسٹ ہی نہیں کرتیں..."
کچھ پر لکھا تھا......
"تمہاری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا میں دفع ہو جاؤ۔"
______________________
شاہ اس کے چہرے کو دیکھے جا رہا تھا اور اس کے ادا کئے گئے الفاظوں کو سن رہا تھا۔
"شاہ" جب وہ محبت میں انتہا کرنے والی لڑکی اس شخص کی خواہشات پر پوری نہیں اترتی۔
نااس کی بےجا خواہشات کو پوراکرسکتی ہے تو وہ اس کو لمحے میں زمین پر لاپٹکتا ہے۔ وہ جو اس کی عزت کی دہائیاں دیتا ہے وہ اس کے کردار پر انگلی اٹھانے لگتا ہے، اس کو بد کردار کہنے لگتا ہے، حالانکہ وہ ایسی نہیں ہوتی وہ تو اس کی محبت میں اندھی ہو کر اس پر یقین کر لیتی ہے جو س کے یقین کی دھجیاں اڑا دیتا ہے....
اور جب وہ ہی لڑکی اس کی بات مان لیتی ہے تو اس کو آسمان پر بیٹھا دیتا ہے... اسی طرح وہ سالوں، کتنے مہینوں کسی کے جذبات کے ساتھ فریب کرتے ہیں، وقت گزارتے ہیں، اس کو اس اس قدر حسین خواب دیکھاتے ہیں کہ وہ کسی اور دنیا میں جینے لگتی ہیں۔وہ اس شخص کے سوا کسی کا تصور بھی نہیں کرسکتی۔
مگر شاہ جب ان کا دل ٹوٹتا ہے نا تو ان کا مان، ان کا یقین کرچیاں کرچیاں ہوجاتاہے..... وہ جیتے جی مر جاتی ہیں۔
سپنے جب ٹوٹتے ہے نا شاہ تو انسان کے اندر وجود کے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔ جیسے کسی نے شیشے کو توڑ کر چکنا چور کر دیا ہو، نا وہ جوڑنے کے قابل رہے اور نا رکھنے کے۔
کیسے کوئی کیسی کے ساتھ اتنے سال گزارنے کے بعد اس کو چھوڑ کر کسی اور کے ساتھ زندگی گزارنے کا سوچ سکتا ہے۔ وہ شخص جس کے سپنے جس کا وجود جس کی ہر سانس اس کے پیار کے ساتھ زندگی گزارنے کی مالا جپتا ہو۔ بہت مشکل اور ازیت بھرا وقت ہوتا ہے، وہ تو اپنے وقت کو گزار کر چلا جاتا ہے، اپنے لمحے خوبصورت بنا لیتا ہے،مگر اس کا کیا شاہ....... جس کو وہ پل پل مرتا چھوڑ جاتا ہے.... آخر قصور کیا ہوتا ہے اس کا کے وہ اس کی محبت کو سچ مان لیتی ہے اس کے ساتھ جینے کا سوچنے لگتی ہے۔ہاں اس کا ایک قصور ہوتا ہے کہ وہ اپنی حدود کو پار کرتی ہیں ، وہ اپنی دنیا سے باہر قدم نکالتی ہے... اور اس دنیا میں کچھ بھیڑئیے جو مرد کا خول چڑھا کے بیٹھے ہیں اسے لوٹ لیتے ہیں.....
وہ اذیت میں جینے والے صرف موت کی ہی تمنا کرتے ہیں کیونکہ ان کی ساری خوشیاں ختم ہو جاتی ہیں ان کے لیے... راتوں کو روتے ہیں..... سسکتے ہیں..... خود کو اذیت دیتے ہیں....
اکثر لوگ اس اذیت میں اس قدر ہار جاتے ہیں کہ وہ خودکشی کر لیتے ہے۔ اور کچھ جو موت کی تمنا کرتے رہتے ہیں انھیں موت تو نہیں آتی... مگر وہ زندہ لاش بن جاتے ہیں۔اور کتنی ہی ایسی لاشیں لال جوڑوں میں رخصت ہوتی ہیں۔
کتنے ہی ارمان روز مرتے ہیں،
کتنے ہی لوگ گھسیٹتے ہے کہ وہ اس دنیا کے ساتھ آگے بڑھ جائے۔
بہت سے لوگ تو بظاھر خوش ہوتے ہیں،لوگوں کے سامنے ہنستے کھیلتے ہیں مگر اندر سے وہ مر چکے ہوتے ہیں۔
___________________
ایسی ہی وہ لڑکیاں ہوتی ہے جو اس چار دیواری کی دنیا میں اپنی حدودسے باہر نکل کر غیر پر بھروسہ کر کے تباہ ہو جاتی۔ پھر وہ سسک سسک، کر تڑپ تڑپ کر جیتی ہے۔
اور ان کے ساتھ فریب کرنے والا اپنی زندگی میں آگے بڑھ جاتا ہے، اسے یاد ہی نہیں رہتا کہ اس نے کسی کی زندگی تباہ کی ہے، کسی کے ارمانوں کا قتل کیا ہے۔کسی کے دل کو توڑا ہے۔ انھیں مردہ بنا کر لاوارثوں کی طرح چھوڑ دیا ہے۔
اور ان ہاری ہوئی، تباہ ہوئی لڑکیوں کو لاوارثوں کی طرح جینا پڑتا ہے کیونکہ وہ اپنی تباہی کے خود ذمہ دار ہوتی ہیں۔ اپنی حدود سے نکلنے کا انجام ملتا ہے۔
اپنے ماں باپ کو دھوکا دینے کا انجام ملتا ہے۔
اور سب سے بڑھ کر اللہ کو ناراض کرنے کا گناہ جو وہ کرتی ہے اس کا بدلہ انھیں ملتا ہے، کیونکہ اللہ اپنی نافرمانی کرنے والے کو معاف نہیں کرتا سزا ضرور دیتا ہے۔
اور شاید میں بھی ان میں سے ایک تھی۔
میں نےبھی محبت کی تھی، محبت کرنا گناہ نہیں، محبت میں حدو کو توڑ کر آگے نکل جانا گناہ ہے۔
اور میں ان حدو کو توڑ کر بہت آگے نکل گئی تھی، جس کی مجھے سزا ملی۔
________________________
اب وہ زمین پر بیٹھی ایک ایک کرکے کاغذوں کے ٹکڑے پھاڑ پھاڑ کر اس کھودے گئے گڑھے میں پھینک رہی تھی۔
جب سارے کاغذ اس نے گڑھے میں رکھ دئیے تھے، پھر اس نے پرس میں سے ٹشو پیپر نکالا، اسے کھولنے لگی، اس میں سرخ رنگ کی چوڑیوں کی کرچیاں تھیں جو اس نے گھڑے میں پھینکیں....
وہ کچھ لمحے خاموشی سے ان کوتکتی رہی... پھر بولی۔
میں نے اس سے پوچھا، زئی سرخ رنگ ہی کیوں؟ اس نے کہا.....
سرخ رنگ محبت کی علامت ہے۔
اس نے غلط کہا تھا شاہ۔
سرخ رنگ تو اس خون کی پیشنگوئی تھی، جو میری آنکھوں سے بہتا تھا۔"
پھر اس نے دوسرے ٹشو پیپر کو کھولا اور اس میں رکھی مٹی گڑھے میں گرانے لگی....
یہ وہ مٹی ہے شاہ جسے اس کے پیروں نے چھوا تھا، اس مٹی کو سمبھالتے سمبھالتے میں آپ مٹی ہو گئی ہوں.....
وہ اٹھ کھڑی ہوئی...... اور بیلچہ لے کر آس پاس کی مٹی کاغذوں پر ڈالنے لگی۔
ہر بیلچہ کے ساتھ مٹی جب کاغذوں پر پڑتی تو کچھ آواز پیدا ہوتی۔
وہ بولی،
"آپ نے کبھی کاغذوں کو روتے دیکھا ہے؟
پتا ہے شاہ یہ کاغذ رو رہے ہیں، انہیں عادت ہوگئی تھی، اشنال کے آنسوؤں کی۔
مگر شاہ یہ کاغذ بھی زئی کی طرح خود بھی غرض ہیں۔یہ محبت پر نہیں رو رہے، یہ اسلئے رو رہے ہیں کہ اب کبھی پاگل آنکھوں والی لڑکی ان پر اپنی اذیت تحریر کرکے روئے گی نہیں۔
انہیں شاید معلوم ہو چکا ہے کہ اشنال زئی، اشنال سید بن چکی ہے۔"
اسے حق تھا وہ اسے روک سکتا تھا، مگر اس نے نہیں روکا، وہ اسے ہر وہ کام کرنے دینا چاہتا تھا جسے کرنے کے بعد وہ سکون محسوس کرے.....
_________________________
اب مٹی کے ساتھ اشنال کے آنسو بھی قبر کی مٹی میں جذب ہو رہے تھے۔
اشنے تم نے رونا ہے تو میں جارہا ہوں۔"
بالآخر اسکا ضبط جواب دے گیا....
وہ پیچھے پلٹی،اوربے یقینی سے اسے دیکھا۔
نیلی جینز پر، پنک ڈارک بلیو شرٹ، فولڈڈکف، کلائی پر چمکتی سلور گھڑی، فوجی کٹ، ہئیر اسٹائل، اسٹائلش سی بئیرڈ، دھوپ کی تمازت سے سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ خفگی سے اسے دیکھتا روٹھا روٹھا ساوہ پہلی بار اسے پیارا لگا تھا.....
وہ کیپٹن شاہ کو پہلی بار غور سے دیکھ رہی تھی،وہ اسکا دیکھنا محسوس کر رہا تھا.....
پھر وہ لہجے میں چیلنج کر کے بولی....
چلے جائیں گے، مجھے چھوڑ کر؟"
کتنی مشکل میں پڑھ گیا تھا وہ....
اب وہ منہ موڑ کر گاڑی کے چھت پر دونوں بازو رکھے کھڑا ہو گیا۔
شاید شاہ کی ناراضگی کا اظہار تھا، وہ مسکرائی....
اچھی طرح سے قبر بنا کر اس نے شاہ سے منگوائی تختی اٹھائی،جوکہ سیاہ رنگ کی تھی اور سفید رنگ سے"پاگل آنکھوں والی لڑکی" لکھا ہوا تھا....
اور اسے قبر کے سر کی جانب مٹی میں دبانے لگی۔ پھر اس نے آخری کام مرجھایا ہوا گلاب مٹی میں لگا دیا،اور اٹھ کھڑی ہوئی۔
آنسوؤں سے تر آنکھوں،اور چہرے کے ساتھ کانپتی ہوئی آواز میں بولی۔
جاؤ زئی، میں نے تمہیں آزاد کیا،ساری قسموں سے، سارے وعدوں سے، اپنے ہر آنسو سے، اپنی ہر اذیت سے رہا کیا۔
اپنی ذہنی بربادی بھی بخش دی تم کو۔ اپنے وجود کے ہوئے ٹکڑوں پر کیاہوا ماتم بھی تم کو بخش دیا۔ جاؤ میں نے تم کو خدا کی رضا کے لیے معاف کیا۔"
اب روتے روتے اس کا وجود لرزنے لگا تھا.....
شاہ آگے بڑھا اور اسے خود سے لگالیا....
کافی دیر وہ اس کے ساتھ لگی ہچکیاں لیتی رہی،
شاہ کی شرٹ اس کے آنسوؤں سے بھیگتی رہی۔
مگر آج اسے یہ سب کرکے سکون ملا تھا،اس کے دل کا بوجھ اترا تھا۔
آج اللہ پاک نے ایک اذیت سے پوری طرح آزاد کیا تھا،اور شاہ جیسے محرم کا ساتھ دیا تھا۔یہ سب محسوس کر کے اسے سکون ملا تھا۔
پھر اشنال نے ایک الوداعی نظر پاگل آنکھوں والی لڑکی کی قبر پر ڈالی اور شاہ کا ہاتھ مضبوطی سے تھام کر اس کے ساتھ گاڑی کی طرف بڑھ گئی.....
پھر اس کی تدفین کرنے کو
ٹوٹے ہوئے خوابوں کے قافلے آئے...!!!
______________________
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔


0 Comments
Please do not enter any spam link in the Comment Box.